اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق امریکا نے شام کو دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے، جس کے نتیجے میں دمشق پر عائد دہائیوں پرانی ایک اہم پابندی ختم ہوگئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے حیات تحریر الشام اور اس کے سابق نام النصرہ فرنٹ کو بھی عالمی دہشتگرد تنظیم کے طور پر نامزدگی سے ہٹا دیا، جبکہ محکمہ خزانہ نے شام کیلئے پابندیوں میں نرمی کا عمل آگے بڑھایا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات شام میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے حالات بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ شام میں اضافی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں معاون ہوگا۔
محکمہ خزانہ نے تاہم واضح کیا کہ شام پر عائد بعض پابندیوں کا خاتمہ دہشتگردی کے خلاف امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں سمجھا جائے گا اور واشنگٹن شام میں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جنہیں وہ عالمی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔
حیات تحریر الشام کو پہلے النصرہ فرنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ تنظیم ماضی میں القاعدہ کی شام میں شاخ کے طور پر کام کرتی رہی۔ تاہم گروپ نے 2016 میں القاعدہ سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا اور بعد ازاں اپنی شناخت اور سیاسی مؤقف میں تبدیلی کی کوشش کی۔
امریکا نے رواں سال جولائی میں شام کو دہشتگردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دمشق سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی قرار دیا گیا۔
یہ پیش رفت امریکا اور شام کے تعلقات میں ممکنہ نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ جولائی میں ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد شام کے حوالے سے واشنگٹن کے مؤقف میں نرمی کے اشارے سامنے آئے تھے۔
