اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ایک درجے بہتر کرتے ہوئے سی اے اے 1 سے بی3 کردی ہے، تاہم ملک کا آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھتے ہوئے ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو اب بھی کمزور قانون کی حکمرانی، محدود حکومتی اثر پذیری، کمزور ریونیو بیس اور بیرونی مالی ضروریات سمیت متعدد بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجہ پاکستان کی بیرونی مالی کمزوری میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اور میکرو اکنامک استحکام ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ مقامی شرح سود میں کمی اور مالیاتی پوزیشن میں بہتری کے باعث حکومتی قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ریٹنگ میں اضافے کو خوش آئند قرار دیا، تاہم موڈیز نے واضح کیا کہ بی3 اب بھی انتہائی قیاس آرائی پر مبنی ریٹنگ ہے اور پاکستان سرمایہ کاری گریڈ سے سات درجے نیچے ہے۔
موڈیز نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن اب بھی ساختی طور پر کمزور ہے، جس کی وجوہات میں محدود برآمدی بنیاد، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی انتہائی کم آمد، ترسیلات زر پر زیادہ انحصار اور بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے سرکاری و تجارتی فنانسنگ پر انحصار شامل ہے۔
ایجنسی کے مطابق کمزور ایف ڈی آئی پاکستان کی سرمایہ کاری کے حصول میں طویل عرصے سے موجود مشکلات کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جس کے باعث پیداواری صلاحیت، برآمدات میں تنوع اور معاشی نمو متاثر ہوتی ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ پاکستان کا بیرونی خطرے کا اشاریہ 2025 کے 230 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں تقریباً 145 فیصد ہوگیا، جبکہ مالی سال 2026 میں حکومتی آمدن کا تقریباً 35 فیصد سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوا، جو گزشتہ مالی سال کے 49 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم موڈیز کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ اب بھی بلند ہے اور اس سے حکومت کی سماجی اخراجات اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کی گنجائش محدود رہتی ہے۔
موڈیز نے اندازہ لگایا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو آئی ایم ایف کے ہدف سے کم از کم ایک ارب ڈالر کم ہیں۔
ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر مسلسل عملدرآمد کی صورت میں پاکستان مالی سال 2027 میں تقریباً 21 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرسکے گا، جبکہ مستحکم آؤٹ لک بہتری کے امکانات کے ساتھ موجودہ معاشی خطرات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔
