Hina Javed's death was not suicide, Rawalpindi Police declared it a murder

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر  کے مطابق راولپنڈی پولیس نے ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حنا جاوید کی موت کو خودکشی قرار دینے کا تاثر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 45 سالہ خاتون حنا جاوید کو قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم پولیس ریمانڈ پر ہیں جبکہ ان کے سسر کو بھی تفتیش میں شامل کرلیا گیا ہے تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔

ریجنل پولیس افسر بابر سرفراز الپا نے پیر کو پولیس لائنز آڈیٹوریم میں سٹی پولیس آفیسر حسن مشتاق سکھیرا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور ایس پی پوٹھوہار کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کو ابتدا میں خودکشی کا رنگ دیا گیا تھا، تاہم لاش کا معائنہ کرنے کے بعد خودکشی کا تاثر ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ قتل ہے اور اس کی تفتیش کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

آر پی او کے مطابق 20 اگست کو صبح تقریباً 6 بجے اصغر علی فیاض پولیس اسٹیشن پہنچے اور اطلاع دی کہ فیصل علوی روڈ پر واقع ان کے گھر میں چور داخل ہوئے ہیں۔ پولیس موقع پر پہنچی تو اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے حنا جاوید کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ لاش شاور سے بندھی ہوئی تھی۔ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی درخواست پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر فیاض، گھریلو ملازم زیشان اور ایک نامعلوم شخص کو نامزد کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ فیصل اور زیشان اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ سسر کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ آر پی او نے کہا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے تمام تفصیلات سامنے لانا مناسب نہیں، تاہم ٹھوس شواہد ملنے پر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

پولیس کے مطابق زیرحراست گھریلو ملازم زیشان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ واقعے کی رات حنا اور ان کے شوہر کے درمیان کسی معاملے پر جھگڑا ہوا، جس کے دوران مبینہ طور پر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حنا نے فرار ہونے کی کوشش کی تو انہیں گلا دبا کر قتل کردیا گیا اور بعد میں لاش کو باتھ روم منتقل کرکے خودکشی کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدا میں مختلف بیان دیا تھا، تاہم ریمانڈ کے دوران اس نے اعتراف جرم  کرلیا۔