اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون خبر کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبی گزرگاہ میں دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی صورت میں ایران کو زیرو ٹالرنس پالیسی کی وارننگ دے دی ہے۔ ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان تہران میں ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر تعمیری گفتگو کی۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعيدی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے دوران پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک اپنا مؤقف بھی پہنچایا۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب ایک ذریعے نے تسنیم کو بتایا کہ عاصم منیر کا دورہ کسی دھمکی کی ترسیل کے لیے نہیں تھا بلکہ ایران کا مؤقف واضح کرنے اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا۔
ایران نے امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے اور اس کی شقوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے خصوصی طور پر آرٹیکل 5 پر عمل درآمد پر زور دیا، جس میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور اس کے مستقبل کے انتظام سے متعلق عمان سے مشاورت شامل ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ اگر کسی جہاز یا کشتی نے نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر تباہ کردیا جائے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسپیس فورس آبنائے کے ’ہر مربع انچ‘ کی نگرانی کررہی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اور مستقبل میں امریکا کا خطے میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ قطر نے امریکی پابندیوں کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی، تاہم ایرانی اقدامات سے متعلق اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے۔
امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے پانچ اعلیٰ کمانڈروں کی گرفتاری یا شناخت میں مدد دینے والی معلومات پر مجموعی طور پر 10 ملین ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔ ادھر چین نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون میں امریکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی جنگ اور زیادہ سے زیادہ دباؤ مسئلے کا حل نہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران پر مزید فوجی کارروائی کا امکان مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا دوبارہ فوجی طاقت استعمال کرے گا۔
