Pakistan invites Iranian leadership for urgent consultations, Tehran names Islamabad as central mediator in talks with US

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر  کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران امریکا تنازع کے تناظر میں پاکستان نے ایرانی قیادت کو فوری مشاورت کے لیے اسلام آباد مدعو کر لیا ہے، جبکہ تہران نے بھی امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان کو اپنا بنیادی ثالث قرار دے کر اسلام آباد کے کردار کی اہمیت مزید واضح کر دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کو بھی فوری مشاورت کے لیے اسلام آباد مدعو کیا ہے۔ دونوں دعوت نامے تہران میں ایرانی قیادت تک پہنچا دیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں کے دورۂ پاکستان کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں جلد از جلد اسلام آباد آنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر متوقع فوجی حملہ مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک کی درخواست پر تہران کو مذاکرات کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی سفارتی حل کے لیے حملہ روکنے کی اپیل کی تھی۔

دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے گا یا کسی نئے انتظام پر اتفاق ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان ہی بنیادی ثالث ہے، جبکہ قطر صرف ضرورت پڑنے پر معاون کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے ثالث کو شامل کرنے کی اطلاعات درست نہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا فوجی دباؤ برقرار رکھے گا اور ایران کے پاس معاہدے کے لیے آخری موقع موجود ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔