Tensions rise again over the Strait of Hormuz, Iran threatens new action, Trump refuses to extend negotiated agreement

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات میں تعطل کے بعد فوجی پوزیشن کو مکمل جارحانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں طے پانے والے عارضی جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر سفارت کاری ناکام رہی تو ایران آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے تیار ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے بروقت اور درست فوجی کارروائی کرے گا۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جون میں اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا۔

 17 جون کو دستخط ہونے والے اس معاہدے میں وسیع تر امن معاہدے کے لیے 60 دن کی مدت مقرر کی گئی تھی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔ یہ مدت پیر کو ختم ہوگئی۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شرائط پر عملدرآمد مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ دوسری جانب پیر کو صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جون کے عارضی معاہدے میں توسیع کے امکان کو مسترد کردیا۔

دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پس پردہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ٹولسی گیبارڈ نے عراقی کرد رہنما سے رابطہ کیا، جس کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اسی ذریعے سے امریکی پیغام ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد واحدی تک پہنچایا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے بھی ان رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے کہا کہ مختلف ایرانی حکومتی حلقوں کے ساتھ امریکی رابطے شاید ماضی کے مقابلے میں اس وقت زیادہ وسیع ہیں۔

آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکا کے اختلافات عمان تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک شق اسے آبنائے کے انتظام کا حق دیتی ہے، جبکہ امریکا اس تشریح کو مسترد کرتا ہے۔

ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے کے انتظام سے متعلق الگ معاہدے پر بھی مذاکرات کیے ہیں اور تہران کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کسی سمجھوتے کے قریب ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے عمان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ رکاوٹ بنے تو امریکا اس پر حملہ کرسکتا ہے۔