اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ ایران کی جانب سے اچانک حملے کی کوشش تھی، تاہم تمام میزائل راستے میں ہی روک لیے گئے۔
اگرچہ امریکی فوج نے حملے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میزائل اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے کی جانب داغے گئے تھے۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کے خلاف امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے واشنگٹن سے مذاکرات بحال کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بعد ازاں بتایا کہ امریکی اور سعودی فضائیہ نے عراق میں ایران نواز مسلح گروپوں کے لاجسٹک مراکز اور اسلحہ کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ گروہ امریکی افواج اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جبکہ سعودی حکومت نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشیدگی نہیں چاہتی، تاہم اپنی سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
دریں اثنا ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کو مبینہ خلاف ورزیوں پر روک لیا ہے۔ تاہم ان جہازوں کی شناخت یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
