اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ سے رجوع کرتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور مستقل ثالثی عدالت کے فیصلوں کی پاسداری پر آمادہ کرے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو اس معاملے پر دوسرا خط ارسال کیا ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، موڑنے، محدود کرنے، اس کے بہاؤ میں مداخلت یا اسے کسی بھی انداز میں کنٹرول کرنے کی کوشش کے انسانی، معاشی اور سکیورٹی اثرات انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے 31 اگست کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان بدستور نافذ اور پابند ہے۔
عدالت نے رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے حوالے سے عبوری اقدامات بھی جاری کیے ہیں۔ فیصلے کے تحت بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطح سے آگے مکمل کرنے سے روکا گیا ہے، جب تک غیرجانبدار ماہر منصوبے کے ڈیزائن کی معاہدے سے مطابقت کا تعین نہیں کرلیتا۔
عدالت کی پابندی غیرجانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہے گی۔ یہ فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ سندھ طاس کا نظام تقریباً 250 ملین افراد کی زندگی اور روزگار سے جڑا ہے اور ملک کی زراعت، خوراک کے تحفظ، معیشت اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا یا یکطرفہ کنٹرول میں لینے کی کوشش محض دوطرفہ قانونی تنازع نہیں رہے گی بلکہ اس کے انسانی، معاشی اور سکیورٹی اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔
پاکستان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر کوئی ملک سیاسی بنیادوں پر بین الاقوامی معاہدے سے دستبرداری یا اس کی شرائط نظرانداز کرنے کی اجازت حاصل کرلے تو اس سے دنیا بھر میں سرحد پار پانی کے معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کے نظام کی ساکھ متاثر ہوگی۔
خط کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو نام نہاد ابیانس میں رکھنے کے بعد تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور مذاکرات، قانونی طرز عمل اور پرامن تنازعات کے حل کے عزم کو برقرار رکھا۔
تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ پانی اور غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور عوام کی بقا کو متاثر کرنے والے اقدامات کو معمول کا معاملہ نہیں بنایا جاسکتا۔
پاکستان کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
