Debt stands at Rs 8.67 trillion; the government has planned to seek an additional Rs 6.86 trillion in the new fiscal year.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرض گزشتہ چار سال کے دوران 76 فیصد بڑھ کر 86.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت نے نئے مالی سال میں بجٹ خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 6.86 کھرب روپے قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

وزارت خزانہ کے کے مطابق جون 2022 میں مجموعی عوامی قرض 49.3 کھرب روپے تھا جو جون 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی قرض میں 59.4 کھرب روپے ملکی قرض جبکہ 27.3 کھرب روپے کے مساوی غیرملکی قرض شامل ہے۔

مالی سال 2027 میں حکومت کی مجموعی اضافی قرض گیری میں 6.046 کھرب روپے ملکی اور 813 ارب روپے غیرملکی قرض شامل ہوگا۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ 7.020 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ ملکی و غیرملکی قرضوں کی میچورٹیز شامل کرنے کے بعد مجموعی مالی ضروریات 28.647 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی، جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہیں۔

حکومت نے مختصر مدت کے ٹریژری بلز پر انحصار کم کرنے اور درمیانی و طویل مدت کے مالیاتی ذرائع بڑھانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

اس مقصد کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی خالص نئی فروخت 4.58 کھرب روپے رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ نئی جاری کردہ بانڈز میں مقررہ شرح منافع والے پی آئی بیز کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہو۔

وزارت کے مطابق متغیر شرح والے قرضوں کی نمائش بنیادی طور پر 10 سالہ سکوک تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

حکومت 3.785 کھرب روپے کے اجارہ سکوک اور بائی مؤجل سمیت مختلف سکوک آلات جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ سالانہ مجموعی سکوک اجرا کا ہدف تقریباً 6.6 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے 2 اور 15 سالہ زیرو کوپن بانڈز بھی جاری کیے جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر طویل مدت کے نئے مالیاتی آلات متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

غیرملکی فنانسنگ کے تحت خالص بیرونی قرض 813 ارب روپے، یعنی 2.804 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں کثیرالجہتی اداروں سے تقریباً 1.58 ارب ڈالر کی خالص آمد بنیادی ذریعہ ہوگی۔

حکومت نے مالی سال 2027 میں بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ سے 2 ارب ڈالر سے زائد یورو بانڈز یا انٹرنیشنل سکوک جاری کرنے کا بھی ہدف رکھا ہے، تاہم یہ منصوبہ مارکیٹ کے حالات سے مشروط ہوگا۔

حکومت گزشتہ ماہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پہلے ہی جاری کرچکی ہے۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اور حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے 1.122 کھرب روپے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ 10 مالی سالوں، یعنی ایف وائے 17 سے ایف وائے26 کے دوران وفاقی مالی خسارے کا اوسطاً 81 فیصد ملکی ذرائع سے جبکہ 19 فیصد بیرونی ذرائع سے پورا کیا گیا۔ FY26 میں بیرونی ذرائع کا حصہ 25 فیصد رہا، جو ایف وائے20 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔