اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران کے معاملے پر سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع سے متعلق امریکی قرارداد پر ووٹ دینے سے گریز کیا، جبکہ روس اور چین نے قرارداد کو ویٹو کردیا۔
سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 11 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ روس اور چین کے ویٹو کے باعث پابندیوں کی نگرانی کرنے والے آزاد ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع نہیں ہوسکی۔
یہ پینل ایران پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کی آزادانہ نگرانی، مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور اپنی سفارشات و نتائج سلامتی کونسل کو پیش کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم ماہرین کی تقرری پر اتفاق نہ ہونے کے باعث یہ پینل تقریباً ایک سال سے عملی طور پر فعال نہیں تھا، جبکہ اس کا موجودہ مینڈیٹ 26 ستمبر کو ختم ہونا تھا۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 2015 کے معاہدے کے بعد پابندیوں کی قانونی حیثیت ایک بار پھر اختلاف کا مرکز بن گئی ہے۔ 2025 میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے تہران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسنیپ بیک طریقہ کار فعال کیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہوئیں۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ معاملہ اب زیادہ پیچیدہ ہوچکا ہے اور 2015 کی قرارداد 2231 میں موجود تعاون اور پرامن حل کی روح سے صورتحال کافی آگے آچکی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی، جوہری تنصیبات پر حملے اور مستقل ارکان کے درمیان اختلافات نے مذاکرات کو مزید مشکل بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات بنیادی اصول ہیں اور ایران کے جوہری مسئلے کو تمام فریقوں کے حقوق، ذمہ داریوں اور بین الاقوامی وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کو حفاظتی اقدامات کا تکنیکی ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کے آزادانہ اور سیاسی مداخلت سے پاک کام کی حمایت کی۔
روس کے اقوام متحدہ میں سفیر ویسیلی نیبنزیا نے مغربی ممالک پر سلامتی کونسل کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اختلافات کا حل صرف سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکن ہے۔
