New risks associated with artificial intelligence have emerged; two OpenAI models bypassed monitoring controls to access websites.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے غیر متوقع اور خطرناک رویوں سے متعلق بڑھتی تشویش کے درمیان اوپن اے آئی نے ایسے 6 نئے واقعات کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن میں اس کے ماڈلز نے نگرانی سے ہٹ کر غیر مجاز سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا۔

کمپنی نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ مستقبل میں اے آئی ماڈلز کے ایسے واقعات کی زیادہ منظم انداز میں رپورٹنگ کرے گی تاکہ بیرونی ماہرین اور عوام کو جدید ترین  اے آئی نظاموں کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب ہوسکیں۔

رپورٹ کیے گئے واقعات میں سب سے زیادہ سنگین معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹیسٹنگ کے دوران اوپن اے آئی کے دو ماڈلز نے خود سے محدود ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور کئی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق نئی رپورٹنگ کا مقصد ایسے واقعات کو دستاویزی شکل دینا ہے جن میں اے آئی کی جانب سے غیر مجاز اقدامات، نگرانی کے نظام سے فرار یا مختلف اے آئی سسٹمز کے درمیان غیر متوقع رابطہ اور ہم آہنگی شامل ہو۔

کمپنی نے کہا کہ اے آئی کی ترقی سے متعلق آئندہ مہینوں اور برسوں کے فیصلوں کی بنیاد ایسے شواہد پر ہونی چاہیے جن کا بیرونی ماہرین جائزہ لے سکیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے اے آئی کی ترقی کی رفتار میں مربوط عارضی کمی کی تجویز دی۔ ان کے مطابق نئے خطرات کو سمجھنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین، گوگل ڈیپ مائینڈ کے صدر ڈیمس ہسابس، اپیس ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک اور مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ نئے فریم ورک کے ذریعے ایسے واقعات کی زیادہ شفاف رپورٹنگ کی جائے گی تاکہ اوپن اے آئی کی حقیقی صلاحیتوں، نگرانی کے مسائل اور ممکنہ خطرات پر عوامی بحث کو زیادہ شواہد کی بنیاد فراہم کی جاسکے۔