اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری ایران امریکا تنازع اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات کے باعث پاکستان نے اپنی توانائی کی درآمدات کے ذرائع متنوع بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری سینرجیکو پی کے لمیٹڈ نے رواں مالی سال امریکا سے خام تیل کی درآمد تقریباً 40 فیصد بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
کمپنی رواں مالی سال امریکا سے کم از کم 12 ملین بیرل خام تیل درآمد کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جس کے لیے ہر ماہ تقریباً 10 لاکھ بیرل کا ایک کارگو درآمد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
سینرجیکو کے وائس چیئرمین قریشی نے بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ مالی سال اکتوبر 2025 سے مئی 2026 کے دوران امریکا سے تقریباً 7.1 ملین بیرل خام تیل سات کارگوز کی صورت میں درآمد کیا، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 750 ملین ڈالر تھی۔ رواں مالی سال، جو جولائی میں شروع ہوا، کمپنی اب تک ایک ملین بیرل امریکی خام تیل درآمد کرچکی ہے۔ تاہم ان کے مطابق 12 ملین بیرل کا ہدف اسی صورت حاصل کیا جائے گا جب امریکی خام تیل کی درآمد تجارتی طور پر قابل عمل رہے۔ حتمی فیصلہ خلیجی خام تیل کی پاکستان تک پہنچنے والی لاگت، گراس ریفائننگ مارجن، خام تیل کی دستیابی، مال برداری کے اخراجات اور ریفائنری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
قریشی نے کہا کہ کمپنی اسپاٹ مارکیٹ سے فوری خریداری کے مواقع کے ساتھ طویل مدتی سپلائی انتظامات کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور فی الحال دونوں کے لیے کوئی مقررہ تناسب طے نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق کمپنی وہاں سے خریداری کو ترجیح دے گی جہاں قیمت، قابل اعتماد سپلائی اور توانائی کے تحفظ کا بہتر امتزاج دستیاب ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی محصولات سینرجیکو کی اضافی درآمدات کی بنیادی وجہ نہیں بلکہ اصل عوامل معاشی فائدہ، ریفائنری کے ساتھ خام تیل کی مطابقت، سپلائی کا تسلسل اور سکیورٹی ہیں۔
قریشی کے مطابق گزشتہ مالی سال سینرجیکو کی امریکی خام تیل درآمدات کے باعث پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 61 فیصد سے کم ہوکر 47 فیصد رہ گیا۔ اس دوران پاکستان کی امریکا کو برآمدات 2 فیصد بڑھ کر 6.1 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے درآمدات 39 فیصد اضافے کے بعد 3.27 ارب ڈالر ہوگئیں۔
قریشی نے مزید بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پاکستان کی مجموعی برآمدات کے لیے زیر بحث 5 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی سہولت دستیاب ہونے کی صورت میں سینرجیکو بھی اس کے ذریعے خام تیل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔
