From the Indian border to the US, alleged cross-border operations have raised new questions regarding accountability.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک ڈان نیوز کی خبر کے مطابق نئی دہلی اور ڈھاکا کے درمیان سرحدی کشیدگی سے لے کر امریکا اور کینیڈا میں سکھ کارکنوں سے متعلق مقدمات تک، بھارت سے جڑے کئی واقعات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ مختلف ملکوں میں مبینہ ریاستی یا سرحد پار کارروائیوں کے لیے احتساب کا معیار ایک جیسا کیوں نہیں۔

7 جنوری 2011 کو 15 سالہ بنگلہ دیشی لڑکی فیلانی خاتون کو اس وقت بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے گولی مار دی تھی جب وہ اپنے والد کے ساتھ ضلع کُری گرام کے قریب سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی لاش کئی گھنٹوں تک باڑ پر لٹکی رہی اور یہ واقعہ بھارت اور بنگلہ دیش کے غیر مساوی تعلقات کی علامت بن گیا۔

آئین و سلیش مرکز کے مطابق 2014 سے فروری 2026 تک بی ایس ایف کی فائرنگ میں 285 بنگلہ دیشی شہری مارے گئے، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مزید 10 افراد سرحدی تشدد میں ہلاک ہوئے۔ صرف 2025 میں 34 بنگلہ دیشی شہری بی ایس ایف کی فائرنگ یا مبینہ تشدد کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب امریکا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنن کے قتل کی سازش کا مقدمہ ایک مختلف قانونی منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ نکھل گپتا نے فروری 2026 میں نیویارک کی وفاقی عدالت میں قتل کے عوض رقم دینے کی سازش اور دیگر الزامات کا اعتراف کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے بھارتی سرکاری اہلکار وکاس یادیو کی ہدایت پر کام کیا، تاہم اس مقدمے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بھارتی وزیر اعظم یا کابینہ نے کارروائی کی منظوری دی تھی۔ یادیو تاحال گرفتار نہیں ہوا۔

کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل نے بھی بھارتی ریاست کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھائے۔ بھارت ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے معاملے میں بھی مبینہ ملزمان کے بھارت فرار ہونے کا دعویٰ سامنے آیا، تاہم بھارتی ریاست کے ملوث ہونے کا کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ طاقت کا عدم توازن ہے۔ امریکا کے پاس تفتیش، خفیہ کارروائی، گرفتاری اور عدالتی کارروائی کے لیے زیادہ وسائل ہیں، جبکہ بنگلہ دیش زیادہ تر سفارتی احتجاج اور تحقیقات کے مطالبات تک محدود رہتا ہے۔ یہی فرق سرحد پار انصاف اور احتساب کے معیار پر بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔