Growing global concern over AI Trump dismisses risks as a 'hoax,' while experts call for slowing down development.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے خاتمے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’ہوکس‘ قرار دے دیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بعض بڑے نام جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور حفاظتی اقدامات بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ اے آئی کے دنیا پر قبضے اور انسانیت کو تباہ کرنے جیسے خدشات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق امریکا چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اے آئی کے لیے درکار بنیادی حفاظتی اقدامات ایک ’مضبوط اور ذہین صدر‘ کے پاس پہلے ہی موجود ہیں۔ انہوں نے ان خدشات کا موازنہ ماضی کے ان معاملات سے بھی کیا جنہیں وہ ’ہوکس‘ قرار دیتے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو ایموڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایموڈی کے مؤقف کو اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ٹیکنالوجی کاروباری ایلون مسک کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔

سابق گوگل ڈیپ مائینڈ محقق بلال چغتائی نے بھی حال ہی میں خبردار کیا کہ اے آئی میں انسانیت کے خاتمے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ اے آئی کی تیاری ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ٹیک کمپنیوں کے درمیان تعاون ضروری ہے تاکہ مقابلے کی دوڑ بے قابو نہ ہو۔

ٹرمپ انتظامیہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو معاشی منصوبوں کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے، جبکہ صدر نے گوگل کی فن لینڈ میں 15 ارب ڈالر کی اے آئی سرمایہ کاری پر بھی امریکی اجازت ناموں کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

اے آئی کے ممکنہ خطرات پر عالمی بحث ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب ماہرین سائبر حملوں، حیاتیاتی ہتھیاروں اور دیگر انتہائی خطرناک استعمال کے امکانات پر خبردار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک بھی اے آئی سے وابستہ ’غیر معمولی خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دے چکے ہیں۔