امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک جامع 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جسے پاکستان سمیت 8 بڑے مسلم ممالک نے مشترکہ بیان کے ذریعے حمایت کا اعلان کیا  ہے۔ اس بیان پر سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے ٹرمپ کی قیادت اور امن قائم کرنے کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

 

ٹرمپ پلان کے تحت اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے انخلاء کرے گی، ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) غزہ میں تعینات ہوگی، حماس کو حکومت میں کسی کردار کی اجازت نہیں دی جائے گی، غزہ کو ڈیمولٹرائز کر کے ایک خصوصی اکنامک زون بنایا جائے گا جبکہ مغربی کنارے کے انضمام کو روکنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے، فوری انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی تعمیر نو کے اقدامات بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

 

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹرمپ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کا نفاذ خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے، جبکہ اسرائیل نے بھی قیدیوں کی رہائی اور بتدریج انخلاء پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطری وزیر اعظم کو فون کر کے اس حملے پر افسوس کا اظہار کیا جس میں ایک قطری شہری مارا گیا تھا۔