Kushner's two-day diplomatic campaign in vain, disagreements remain over Israeli withdrawal from Gaza

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر کی اسرائیلی اور حماس قیادت سے دو روزہ ملاقاتیں غزہ میں جاری تعطل ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کردیا ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔

کشنر نے پیر کو اسرائیل میں نیتن یاہو سے کئی گھنٹوں تک ملاقات کی۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کو ختم کرنا تھا، تاہم فوری اور بڑی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو نے کشنر پر واضح کیا کہ اسرائیلی فوج اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے تحت مقررہ حد بندی لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور غزہ میں اپنی ضرورت کے مطابق فوجی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

اسرائیلی مؤقف کے مطابق کارروائیوں میں ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے میں شریک تھے، جس کے بعد موجودہ جنگ شروع ہوئی۔

ملاقات میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے غزہ امور کے ایلچی نکولے ملادینوف بھی شریک تھے۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو اور کشنر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کی تعمیر نو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے شروع نہیں کی جائے گی، جس میں ہلکے ہتھیار بھی شامل ہیں۔

نیتن یاہو کے دفتر نے ملاقات کو گہری اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بورڈ آف پیس  کا مؤقف ہے کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے اور تعمیر نو سے پہلے مکمل کیا جائے۔

بیان کے مطابق دونوں جانب نے دو ورکنگ گروپس بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ایک گروپ غزہ میں غیر مسلح کرنے اور فوجی صلاحیت ختم کرنے کے معاملے پر کام کرے گا، جبکہ دوسرا صفائی، صاف پانی اور دیگر عوامی صحت کے مسائل سے متعلق اقدامات پر توجہ دے گا۔

بورڈ آف پیس  کے ایک عہدیدار نے ملاقات کو تفصیلی اور انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے آگے بڑھنے کے راستے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔