اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کے جنوبی علاقے کوہستک میں منگل کو شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور کم از کم 68 زخمی ہوگئے، جبکہ ہتھیاروں کے ماہرین کے تجزیے کے مطابق واقعہ ممکنہ طور پر امریکی ہتھیار کے براہ راست حملے کا نتیجہ تھا۔
رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینے والے چار فوجی ہتھیاروں کے ماہرین نے کہا کہ عمارت کو پہنچنے والا نقصان کسی دوسرے ہدف سے ٹکرا کر واپس آنے والے ہتھیار کے بجائے براہ راست حملے سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق استعمال ہونے والا ہتھیار غالباً امریکی تھا، نہ کہ ایران کا ایسا فضائی دفاعی میزائل جو اپنے ہدف سے بھٹک گیا ہو۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یکم ستمبر کو ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد حملوں کی تصدیق کی تھی۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی مقامات، ریڈار سسٹم اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں خلیج کے اطراف امریکی فوجی اثاثوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔
امریکی صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا کہ امریکا اس واقعے کی تحقیقات کررہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا معاملے کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔
امریکی فوج نے بھی کہا کہ اسے واقعے سے متعلق رپورٹس کا علم ہے اور وہ تحقیقات کررہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کی رات کوہستک کے ایک گھر میں شادی کی تقریب کے لیے درجنوں افراد جمع تھے۔
رائٹرز کو فراہم کردہ تصاویر میں ملبے کے درمیان خون آلود جوتے اور شادی کی تقریبات میں استعمال ہونے والی سجاوٹ بکھری ہوئی دکھائی دی۔ ایک عینی شاہد نے حملے کے فوراً بعد رائٹرز کو وائس نوٹ بھیجا جس میں کہا گیا کہ کوہستک تباہ ہوگیا، کئی گھر منہدم ہوگئے اور بہت سے لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوج نے یکم ستمبر کو کوہستک کے علاقے میں حملے کیے تھے اور شہر کے مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ ٹاور شادی کی تقریب کے مقام سے تقریباً 135 میٹر دور تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ٹاور کو مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ساڑھے 9 بجے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگ پر تنقید کرنے والے امریکی بائیں بازو اور ڈیموکریٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین امریکا کو ایران میں جنگ ہارتا دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم کا سامنا ہے۔
