اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران مزید 12 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جس کے بعد 21 ستمبر سے اب تک مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جمعے کو نوشکی اور کیچ کے اضلاع میں الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ نوشکی میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
دوسری کارروائی کیچ کے مزان بند رینج کے علاقے میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک دہشت گرد ایران فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ کارروائی کے دوران اسے ہلاک کردیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس سے ایک روز قبل بھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی بھی جاری انسداد دہشت گردی آپریشن کا حصہ تھی۔
فوج کے مطابق بلوچستان میں 21 ستمبر سے فِتنہ الخوارج اور فِتنہ الہندوستان کے خلاف جامع انسداد دہشت گردی کارروائی جاری ہے اور اب تک مجموعی طور پر 33 انڈین اسپانسرڈ خوارج یا دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔ یہ اصطلاحات پاکستانی فوجی بیانات میں استعمال کی جاتی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ عزمِ استحکام کے وژن کے مطابق انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی اور ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا ہے۔ صدر نے 33 دہشت گردوں کے خاتمے اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
