The Strait of Hormuz is under our control, Iran calls Trump's claim a 'lie'

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ اور من گھڑت دعویٰ قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ اب بھی مکمل طور پر ایرانی انتظام اور نگرانی میں ہے۔

ایرانی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق بحری جہازوں کی آمد و رفت کے دعوے جھوٹ اور من گھڑت باتوں کے سوا کچھ نہیں۔

ان کے مطابق آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ ایران کے مکمل انتظام اور کنٹرول میں ہے اور کوئی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر ایرانی مسلح افواج کی اجازت اور نگرانی کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے محفوظ گزر نہیں سکتا۔

ایران نے 28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ تہران کے مطابق جہازوں کو گزرنے کے لیے اجازت حاصل کرنے اور ٹرانزٹ فیس ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو فولاد کی دیوار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اس کے مقابلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔

ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے بھی امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ملک اپنی سرگرمیاں مکمل سلامتی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیے : ایران پر دباؤ مزید سخت، امریکا کا ناقابلِ مثال معاشی محاصرے کا اعلان

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ماضی میں انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث آبنائے ہرمز سے متعلق غلط اندازے لگائے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے بعد اب ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن بہنام سعیدی نے مزید کہا کہ امریکی اور اسرائیلی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق جنگ ہو یا امن، اسرائیلی جہازوں کے لیے گزرنے کا کوئی امکان نہیں، جبکہ امریکی فوجی جہاز بھی آبنائے سے نہیں گزر سکیں گے۔

دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے کے قیام پر مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔

تہران کا کہنا ہے کہ اگر نیا راستہ طے بھی پا جائے تو اس سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھلے گا جب تک امریکا ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔