اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران درجنوں وفود نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جبکہ اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر سینکڑوں افراد نے اسرائیلی حکومت اور غزہ جنگ کے خلاف مظاہرے کیے۔
نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسرائیل کے فوجی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کے الزامات مسترد کیے۔ انہوں نے ناقدین پر منافقت کا الزام لگایا اور انہیں اخلاقی بزدل قرار دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں یہود مخالف میئر قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
ممدانی نے جواب میں کہا کہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے بے بنیاد دعوے دہرائے۔ انہوں نے نیتن یاہو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔
نیتن یاہو کا نیویارک قیام سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ احتجاج کے باعث پہلے ہی مختصر کردیا گیا تھا۔ وہ جمعرات کی صبح نیویارک پہنچے، جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور اسی روز اسرائیل واپس روانہ ہونے والے تھے۔
اقوام متحدہ کے باہر یہودی اور مسلم کارکنوں، فلسطینی حامیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، ترقی پسند یہودی تنظیموں، سیاست دانوں، فنکاروں اور موسیقاروں نے الگ الگ مظاہرے کیے۔
یہودی وائس فار پیس کی جانب سے ہونے والے بڑے احتجاج میں سیکڑوں افراد نے فرسٹ ایونیو اور 39ویں اسٹریٹ پر دھرنا دیا اور امریکی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے سڑک خالی کرانے کی کوشش کی تو گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔
ابتدائی کارروائی میں کم از کم 30 افراد گرفتار ہوئے، جبکہ پولیس کے مطابق بعد میں زیرحراست مظاہرین کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی۔ گرفتار افراد میں اداکارہ سوزن سارینڈن، ہانا آئن بائنڈر اور بعض سیاسی شخصیات بھی شامل تھیں۔
نیتن یاہو کے مختصر دورہ نیویارک کے دوران اقوام متحدہ کا ایوان اور شہر کی سڑکیں ایک ہی تنازع کے دو مختلف محاذ دکھائی دیے۔
