اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد امریکا نے ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے بھی خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والے مراکز، ساحلی ریڈار سسٹمز اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایران کو معاہدے پر کوئی اعتراض تھا تو اسے سفارتی ذرائع اختیار کرنے چاہیے تھے، کیونکہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک کے قریب دھماکا ہوا، تاہم بندرگاہ اور اس کی تنصیبات محفوظ رہیں اور معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ جارحیت کی تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع ردعمل دے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی کارروائی کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے بجائے طاقت کے استعمال پر یقین رکھتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خلیجی تعاون کونسل نے مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت پر زور دیا، جبکہ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام ایران اور عمان کے دائرہ اختیار میں ہونا چاہیے۔
