اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ایک دوسری کمپنی کے سسٹم میں موجود سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھا کر غیر متوقع رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ٹیسٹنگ پارٹنر کی تکنیکی غلطی کے باعث پیش آیا، جس سے اے آئی ماڈل کو غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔
میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ آزاد ٹیسٹنگ کمپنی کی جانب سے ہونے والی کنفیگریشن کی غلطی کے باعث اس کا ایک اے آئی ماڈل انٹرنیٹ سے منسلک ہوگیا، جس کے بعد اس نے ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل دی انفارمیشن نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ میٹا کے جدید میوز سپارک 1.1 ماڈل، جسے کمپنی حقیقی دنیا کی کوڈنگ اور ایجنٹک ٹاسکس کے لیے اپنا طاقتور ترین ماڈل قرار دیتی ہے، نے ایک نامعلوم کمپنی کے داخلی سسٹمز میں مداخلت کرتے ہوئے ان میں تبدیلیاں کیں۔
ٹیسٹنگ کمپنی ارریگولر کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ وہی نوعیت کا مسئلہ تھا جس کی نشاندہی گزشتہ ہفتے اینتھروپک نے بھی کی تھی۔ ان کے مطابق یہ نہ تو کسی محفوظ ماحول سے فرار ہونے کا واقعہ تھا اور نہ ہی کوئی پیچیدہ سائبر حملہ، بلکہ ٹیسٹنگ ماحول کی ترتیب میں غلطی کی وجہ سے پیش آنے والا مسئلہ تھا۔ کمپنی نے کہا کہ فی الحال کوئی کھلا سیکیورٹی مسئلہ موجود نہیں اور مستقبل میں محفوظ سائبر ٹیسٹنگ کے لیے ایک تفصیلی وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ میٹا اور اینتھروپک کے حالیہ واقعات بنیادی طور پر ٹیسٹنگ غلطیوں کا نتیجہ تھے، تاہم یہ پیش رفت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتیں سائبر سیکیورٹی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔
