اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً چار ٹن وزنی بالائی حصہ بدھ کے روز غالب امکان کے مطابق چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ اگرچہ اس تصادم کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، البتہ چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق راکٹ کا یہ حصہ تقریباً 06:35 جی ایم ٹی پر چاند کے شمالی حصے میں واقع آئن اسٹائن کریٹر کے قریب تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے ٹکرانے والا تھا۔ تحقیقی اندازوں کے مطابق استعمال شدہ ایندھن ختم ہونے کے بعد اس حصے کا وزن تقریباً 4,000 کلوگرام (8,800 پاؤنڈ) رہ گیا تھا۔
ناسا نے بتایا ہے کہ اس کا لیونر آربٹر اور جنوبی کوریا کا پاتھ فائینڈر لیونر آربیٹر تصادم کے مقام کی تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان تصاویر کے موصول ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ ناسا کے ترجمان جمی رسل نے کہا کہ ادارہ مستقبل میں اس مقام کا سائنسی مقاصد کے لیے تفصیلی مشاہدہ بھی کرے گا۔
نیو میکسیکو کے لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے سائنس دان بینجمن فرنینڈو نے، جو اس متوقع تصادم پر شائع ہونے والی حالیہ تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، کہا کہ ممکن ہے دوربین رکھنے والے افراد تصادم کے بعد اٹھنے والے گرد و غبار اور ملبے کے بادل کا مشاہدہ بھی کر سکیں، اگرچہ اس کی چمک کا درست اندازہ ابھی ممکن نہیں۔
یہ راکٹ جنوری 2025 میں دو قمری لینڈرز کو لے کر روانہ ہوا تھا۔ مشن کے دوران راکٹ کا مرکزی حصہ زمین پر واپس آگیا، جبکہ دوسرا مرحلہ خلاء میں رہ گیا تاکہ لینڈرز کو ان کے راستے پر بھیجا جا سکے۔ اسپیس ایکس کے مطابق کمپنی نے مشن مکمل ہونے کے بعد معمول کے مطابق حفاظتی اقدامات کیے تھے، تاہم بعد میں شمسی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے راکٹ کے اس حصے کو چاند کی جانب موڑ دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مستقبل کے قمری مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے چاند پر تصادم، گرد و غبار کے پھیلاؤ اور خلائی ملبے کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ناسا مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اسی لیے قمری مدار میں موجود خلائی ملبے کے خطرات کا جائزہ لینا بھی سائنسی ترجیحات میں شامل ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق اس وقت زمین کے گرد مدار میں 46 ہزار سے زائد خلائی ملبے کے ٹکڑے موجود ہیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً 17 ہزار ٹن ہے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر خلائی ملبہ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو مستقبل میں ٹکراؤ کے سلسلہ وار واقعات، جنہیں کیسلر سنڈروم کہا جاتا ہے، خلائی سرگرمیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
