اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر خراب حالات سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا قرار دیا ہے، تاہم امریکی قانون سازوں اور فوجی ذرائع کی جانب سے جہاز پر عملے کی ذہنی صحت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے تشویش سامنے آئی ہے۔
امریکی فوج سے متعلق دو اداروں نیوی ٹائمز اور اسٹارز اینڈ اسٹرائپس نے جہاز پر خودکشی کی کوششوں اور عملے کے حوصلے میں کمی کی رپورٹس شائع کی ہیں۔ امریکی بحریہ میں عام طور پر تعیناتی کا دورانیہ 6 سے 9 ماہ ہوتا ہے، تاہم جنگی حالات میں اسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
ہیگسیتھ نے پاناما کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر جہاز، عملے اور کپتان کو ہر وقت درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے طویل تعیناتی کے باوجود اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل سمندری حالات میں ان کی ذمہ داریاں قابلِ احترام ہیں۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے ہیگسیتھ اور بحریہ کے سیکریٹری کو خط لکھ کر جہاز کے حالات پر وضاحت طلب کی۔ ان کے مطابق جہاز پر بنیادی اشیا کی قلت، پانی کی آلودگی، پلمبنگ کے مسائل، ذہنی صحت کی بگڑتی صورتحال اور ڈیک کی حفاظت سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
بلومینتھل نے یہ بھی کہا کہ ڈاک کے نظام میں خلل کے باعث اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے بھیجے گئے متعدد پیکجز مہینوں تک جہاز تک نہیں پہنچ سکے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جارج واشنگٹن طیارہ بردار بحری جہاز خطے کی جانب روانہ ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ وہ ابراہم لنکن کی جگہ لے گا۔ تاہم عہدیدار نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ امریکی فوج کو ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔
