اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق خیبر پختونخوا کابینہ نے پولیس نظام میں وسیع اصلاحات کے لیے خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پولیس پالیسی اور آپریشنز کو الگ کرنے، نگرانی کا نظام مضبوط بنانے اور تفتیشی و تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
پشاور میں کابینہ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی شفیع جان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون پولیس کو زیادہ جواب دہ، پیشہ ور اور مؤثر بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔
نئے قانون کے تحت صوبائی حکومت کو وفاقی پولیس افسران، بشمول انسپکٹر جنرل پولیس، کی خدمات غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
قانون میں پولیس پالیسی اور عملی آپریشنز کے درمیان واضح تفریق بھی کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس پالیسی بورڈ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی قیادت انسپکٹر جنرل پولیس کریں گے۔
نئے نظام کے تحت صوبائی پولیس سربراہ سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرے گا، جس میں پولیس کی ترجیحات، کارکردگی کے اہداف اور مستقبل کے اقدامات شامل ہوں گے۔ یہ منصوبہ منظوری کے لیے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
قانون کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران بھی تعینات کیے جائیں گے۔ شفیع جان کے مطابق اس اقدام کا مقصد پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور افسران کی پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانا ہے۔
ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت منظم کیے جائیں گے، تاکہ انتظامی معاملات میں مزید جواب دہی یقینی بنائی جاسکے۔
کابینہ اجلاس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور کابینہ ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے صوبے کے راستے مبینہ طور پر بند کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام راستے بند کیے گئے تو خیبر پختونخوا باقی ملک سے کٹ جائے گا۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 3 سے 4 روز سے سادہ لباس میں موجود افراد پی ٹی آئی کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سب کا ہے اور جو عناصر پاکستان یا خیبر پختونخوا کو تقسیم کرنے کی سازش کریں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ صوبے کے عوام پاکستانی تھے، پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے۔
