اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعے کو استنبول روانہ ہوگئے، جہاں وہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد پہلی مرتبہ توسیع شدہ آر 4 پلس ای 3 فارمیٹ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب ایران، یمن، خلیجی خطے اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کی دعوت پر اجلاسوں میں شریک ہورہے ہیں۔ آر 4 اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہوں گے، جبکہ آر 4 پلس ای 3 میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شریک ہوں گے۔ دفتر خارجہ نے اسے سات ممالک کے وزرائے خارجہ کی اس فارمیٹ میں پہلی ملاقات قرار دیا ہے۔
اجلاسوں میں اہم علاقائی پیش رفت، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارتی رابطوں میں ہم آہنگی اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اسحاق ڈار کی استنبول میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شرکت تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اسلام آباد کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ آر 4 مسلم دنیا کے چار بڑے علاقائی ممالک کو اکٹھا کرتا ہے، جبکہ ای 3 میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، جو ایران اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق سفارتی معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق وزرائے خارجہ فلسطین کے مسئلے، آبنائے ہرمز کی صورتحال، یمن میں پیش رفت اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کریں گے۔ دونوں گروپوں کے درمیان تعاون کے ممکنہ شعبوں کے علاوہ اہم سمندری راستوں کی سلامتی بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ایران امریکا کشیدگی نے آبنائے ہرمز کو عالمی سلامتی کے اہم موضوعات میں شامل کردیا ہے، جبکہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے علاقائی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستے ہیں، اس لیے ان میں کسی بھی رکاوٹ سے بین الاقوامی شپنگ اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے توقع ہے کہ وہ علاقائی سلامتی کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کریں گے۔ وہ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور مختلف تنازعات کو ایک دوسرے میں پھیلنے سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دے سکتے ہیں۔
