$40 million project for employment and poverty alleviation in rural Sindh; UNIDO mobilizes.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے صنعتی ترقی  نے سندھ میں جامع معاشی ترقی، دیہی آبادی کے روزگار، موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے تقریباً 40 ملین ڈالر جمع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پروگرام یو این آئی ڈی او کے پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ 2025 تا 2030 کے تحت تیار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور یو این آئی ڈی او کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل و منیجنگ ڈائریکٹر فاتو حیدرا کی سربراہی میں آنے والے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ملاقات میں یورپی یونین کی مالی معاونت سے جاری غربت میں کمی اور دیہی سندھ میں جامع ترقی کے پروگرام (پیڈار) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین نے کامیاب منصوبوں کو وسعت دینے اور پسماندہ آبادیوں کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبائی حکومت کے ساتھ یو این آئی ڈی او کی شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص دیہی آبادیوں، کاروباری سرگرمیوں اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔

وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو نے اجلاس کو بتایا کہ پیڈار پروگرام یورپی یونین کی جانب سے 49.55 ملین یورو کی گرانٹ کے ذریعے نافذ کیا جارہا ہے۔ اس کے تحت ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور لاڑکانہ میں غربت کم کرنے، مقامی معیشت مضبوط بنانے، عوامی خدمات بہتر کرنے اور خواتین و نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر کام ہورہا ہے۔

پروگرام میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی گرانٹس اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ دیہی بنیادی ڈھانچے اور کمیونٹی سہولتوں میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید نے اجلاس میں بتایا کہ بعض مستفید افراد نے مالی معاونت کو کامیاب کاروبار میں تبدیل کیا۔ ان میں بدین میں ریسٹورنٹ کھولنے والی خاتون اور لاڑکانہ میں فلور مل سے منسلک پاستا تیار کرنے کا یونٹ قائم کرنے والا کاروباری شخص شامل ہیں۔

ان کے مطابق ہدف کے تحت مالی معاونت، کاروباری رہنمائی اور منڈیوں تک بہتر رسائی دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے اور روزگار پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مجوزہ 40 ملین ڈالر کا پروگرام بھی انہی ترقیاتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا جائے گا۔