Security forces' crackdown from Mir Ali to Surab; 4 terrorists killed.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران کم از کم چار بھارت نواز دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔ کارروائیوں میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان کے علاقے سُراب میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے دوران فتنۃ الہندوستان سے وابستہ ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا، جبکہ ایک اور دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی۔

خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشت گردی کا ایک منصوبہ اس وقت ناکام ہوگیا جب بارودی مواد لے جانے والا ایک دہشت گرد اس کے قبل از وقت پھٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد مبینہ طور پر پٹواری دفتر کی جانب جارہا تھا اور وہاں بھتہ خوری سے متعلق تنازع کے تناظر میں کارروائی کا منصوبہ رکھتا تھا۔

دھماکے سے دو قریبی گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ بعض دیواریں بھی منہدم ہوگئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی۔

یہ کارروائیاں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری وسیع آپریشن کا حصہ ہیں۔ 27 ستمبر کو آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں چار روز کے دوران 70 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ ایک مرحلے میں شابان کے علاقے میں 17 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بعد کی کلیئرنس کارروائیوں میں مزید 56 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔

29 ستمبر کو سکیورٹی ذرائع نے الگ کارروائیوں میں مزید سات دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی، جن میں پانچ فتنۃ الخوارج اور دو فتنۃ الہندوستان سے وابستہ تھے۔