اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر مرکزی مسئلہ بن گئی ہے، قطر نے ایران سے تجارتی جہازوں کے لیے بحری گزرگاہ میں آزادانہ آمدورفت بحال کرنے پر زور دیا ہے جبکہ تہران نے آبنائے کو معمول کے مطابق کھولنے کے لیے اپنی شرائط مرتب کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے سامنے بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
قطر امریکا کا اتحادی ہونے کے ساتھ ایران کا خلیجی ہمسایہ بھی ہے۔ قطر اور پاکستان نے جون میں امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے لیے ثالثی میں کردار ادا کیا تھا، جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بعد ازاں بتایا کہ ثالثوں کی درخواست پر تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے میں ایک شپنگ کوریڈور پر اتفاق کیا ہے، جس کا کچھ حصہ عمانی اور کچھ ایرانی پانیوں میں ہوگا۔ جہاز ایک مخصوص مرکزی راستے سے گزر سکیں گے، تاہم یہ اس وقت ممکن ہوگا جب امریکا ایران کی شرائط پوری کرے۔
ایران کی سابقہ شرائط میں امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل رہا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران اور عمان اصولی طور پر آبنائے میں بحری ٹریفک کے انتظام اور آمدنی کی تقسیم پر متفق ہوگئے ہیں، تاہم ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بعد میں واضح کیا کہ دونوں ممالک ابھی معاہدے کی تفصیلات طے کررہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی فورسز نے آبنائے میں ایران کی جانب سے کئی ماہ قبل بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکی فورسز نے تقریباً 1500 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد دی، جن میں تقریباً 75 کروڑ بیرل خام تیل موجود تھا۔
