اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکار انتخابی مراکز پر مبصرین کے طور پر خدمات انجام نہیں دیں گے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق ان دونوں اداروں کے ملازمین ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے تعینات نہیں کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل کی جانب سے دائر مقدمے کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حکومتی اہلکار ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تاہم محکمہ انصاف کے مطابق بیورو آف پرزنز، بیورو آف الکوحل، ٹوبیکو، فائرآرمز اینڈ ایکسپلوسوز اور ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ملازمین انتخابی نگرانی کے لیے دستیاب ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف ریاستوں سے ووٹر رجسٹریشن کا ڈیٹا طلب کیے جانے پر بھی خدشات سامنے آئے ہیں کہ وفاقی حکومت انتخابی عمل میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کر رہی ہے۔
انتخابات میں سینیٹ کی 35 نشستوں اور ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ ووٹنگ آئندہ منگل کو شیڈول ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے امکانات نسبتاً زیادہ ہیں، جبکہ سینیٹ میں مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے۔
سابق صدر براک اوباما نے جارجیا کے شہر مورو میں ڈیموکریٹ امیدوار جون اوسوف کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی، جہاں ان کا مقابلہ مائیک کولنز سے ہے۔
اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اور ایران کے ساتھ جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں امریکی اقدار کا فیصلہ بھی ہوگا۔ انہوں نے ووٹرز سے کہا کہ وہ جھوٹ، دھوکا دہی، دھونس اور دولت کے بے جا استعمال کے خلاف اپنا مؤقف واضح کریں۔
دوسری جانب ٹرمپ بھی اپنی جماعت کے امیدواروں کی حمایت اور ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مہنگائی اور ایران جنگ کے باعث ان کی مقبولیت کم ہوکر ریکارڈ کی نچلی سطح کے قریب پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم وہ اب بھی ری پبلکن پارٹی میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
