Iran's blunt response to the US, threatening a 'faster, heavier and more painful' response to any aggression

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور واشنگٹن کی جانب سے معاشی، نفسیاتی اور ذہنی جنگ کا راستہ اختیار کرنا بھی اسی طرح ناکام ہوگا جیسے اس کی فوجی جارحیت ناکام ہوئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی عبداللہی نے کہا کہ امریکا اپنی ’تزویراتی کمزوریوں اور میدانِ جنگ میں ناکامیوں‘ کا ازالہ کرنے کے لیے محاذ تبدیل کرکے معاشی، ابلاغی اور ذہنی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہ غلط فہمی ہے کہ اقتصادی دباؤ، میڈیا آپریشنز اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک جھوٹا خواب ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب اب زیادہ تیز، زیادہ بھاری اور زیادہ تکلیف دہ‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد واشنگٹن کے رہنما مکمل بے بسی کا شکار نظر آئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے دو امریکی جنگی جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جن میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک نیوی ڈسٹرائر شامل تھا۔ 

پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں جہازوں کو نقصان پہنچا اور انہیں علاقہ چھوڑنا پڑا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے دو امریکی جنگی جہازوں کی جانب میزائل داغے، مگر دونوں نے حملے سے بچاؤ کرلیا اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز کے محفوظ علاقے میں داخل ہونے والے ایک امریکی فوجی ڈرون نما بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے انتظام میں ہے اور امریکا کو خطے سے نکل جانا چاہیے۔

اس سے قبل ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز اور دیگر مقامات پر امریکا سے منسلک تین بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ جواباً امریکی فورسز نے تین ایرانی خام تیل بردار ٹینکرز پر حملہ کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 6 ستمبر تک ایرانی بحری ناکہ بندی کے دوران 92 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، تین کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو پر کارروائی کرکے انہیں تحویل میں لیا گیا۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے کہا کہ امریکا اگر ایران کو ایک ڈالر کا معاشی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو اسے اس کے کئی گنا نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا پہلے ہی بھاری قرضوں اور چین سمیت دیگر طاقتوں کے ساتھ معاشی مسابقت کا سامنا کر رہا ہے۔

اسی دوران ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی صورتحال اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات پر ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا۔