Fort Hood Attack Convict to Be Sentenced to Death Dec. 3, Pentagon Announces Live Broadcast

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 31 کو زخمی کرنے والے سابق فوجی ماہرِ نفسیات نڈال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کی جائے گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ امریکا میں پھانسی کی براہِ راست نشریات سے متعلق ایک غیرمعمولی فیصلہ ہے۔

حسن کو 3 دسمبر کو ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جانی ہے۔ نومبر 2009 میں اس نے اڈے کے ایک طبی مرکز میں فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ حسن 1945 کے بعد امریکی فوج میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی پانے والا پہلا شخص ہوگا۔

پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ پھانسی براہِ راست نشر کی جائے گی، جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی سوشل میڈیا پر منصوبے کی تصدیق کی۔

ہیگستھ کے مطابق پھانسی دوپہر ایک بجے اسی مقام پر مقرر ہے جہاں 2009 میں حملہ ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے لوگوں کو ایسے جرائم کے سنگین نتائج سمجھنے میں مدد ملے گی۔ حسن کی آخری خواہش سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں اس کی پروا نہیں۔

فوجی جیوری نے اگست 2013 میں حسن کو منصوبہ بندی کے تحت قتل اور قتل کی کوشش سمیت 45 الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ گرفتاری کے دوران پولیس کی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگیا تھا اور وہیل چیئر استعمال کرتا ہے۔

امریکی فوجی قانون کے تحت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی کے لیے صدر کی منظوری ضروری ہے۔ پینٹاگون کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیگستھ کی سفارش پر سزا کی منظوری دے دی، تاہم وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا صدر براہِ راست نشریات کی بھی حمایت کرتے ہیں۔

سزائے موت کے مخالف ادارے ڈیتھ پینلٹی ایکشن کے مطابق یہ 1961 کے بعد امریکی فوج کی پہلی پھانسی ہوگی۔ ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق 1961 میں پھانسی لٹکا کر دی گئی تھی، جبکہ فوج میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری معلوم پھانسیاں 1945 میں ہوئی تھیں۔

ییل لا اسکول سے وابستہ فوجی قانون کے ماہر یوجین فیڈل نے براہِ راست نشریات کو انتہائی غیرمعمولی قرار دیا۔ تاریخ دان جوناتھن لوری نے بھی سوال اٹھایا کہ پھانسی کو عوام کے سامنے دکھانے کی ضرورت کیا ہے۔