اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ امریکی فوج میں جنرلز اور ایڈمرلز کے لیے مخصوص عہدوں میں مزید 20 فیصد کمی کا اعلان کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ اقدام پینٹاگون میں اعلیٰ فوجی قیادت کے ڈھانچے میں پہلے سے جاری بڑی تبدیلیوں کا اگلا مرحلہ ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق ہیگستھ ورجینیا کے میرین کور بیس کوانٹیکو میں سیکڑوں جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں سے خطاب کے دوران اس منصوبے کا اعلان کریں گے۔
یہ کٹوتی ایک سے چار اسٹار جنرلز اور ایڈمرلز کے لیے مختص عہدوں پر لاگو ہوگی۔ تاہم اس کا مطلب فوری طور پر موجودہ افسران کو ملازمت سے ہٹانا نہیں ہوگا۔ بعض عہدوں کو کم رینک کے افسران کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ کچھ پوسٹیں مکمل طور پر ختم کی جاسکتی ہیں۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال بھی چار اسٹار جنرلز اور ایڈمرلز کے عہدوں میں 20 فیصد کمی اور مجموعی جنرل و فلیگ آفیسر پوزیشنز میں کم از کم 10 فیصد کمی کا حکم دیا تھا۔
پینٹاگون میں اعلیٰ قیادت کی تبدیلیاں پہلے ہی نمایاں رہی ہیں۔ رواں سال اپریل میں آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹایا گیا، جبکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤن جونیئر اور نیوی کی ایڈمرل لیزا فرنچیٹی کو بھی ایران جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
اسی دوران آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے رواں ماہ استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایڈم ٹیل کو قائم مقام آرمی سیکریٹری مقرر کیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال کوانٹیکو میں خطاب کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت کو فیٹ گنرلز سمیت سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور فوج میں تنوع سے متعلق اقدامات پر بھی اعتراضات کیے تھے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ جو فوجی قیادت ان کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں، وہ مستعفی ہوسکتی ہے۔
نئی کٹوتیاں ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں جب امریکا ایران کے ساتھ جنگ میں ہے اور پینٹاگون کو فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ہتھیاروں کے ضیاع سمیت متعدد معاملات پر دباؤ کا سامنا ہے۔ بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جاری جنگ کے دوران اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی روزمرہ فوجی آپریشنز پر کس حد تک اثر انداز ہوگی۔
