اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں نے نئے سکیورٹی معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوگا، تاہم جزیرے کو امریکی ریاست یا علاقہ بنانے کا مطالبہ معاہدے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والے معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام قائم کرسکے گا، جس کا مقصد بیلسٹک میزائل خطرات سے دفاع ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ امریکا کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر ضروریات پر مستقل کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی امریکی مخالف ملک ان کی تحریری اجازت کے بغیر جزیرے میں فوجی موجودگی قائم یا حساس سرمایہ کاری نہیں کرسکے گا۔
معاہدے پر ٹرمپ کے ساتھ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے دستخط کیے۔
فریڈرکسن نے معاہدے کو طویل مدت تک برقرار رہنے والا سمجھوتا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹو اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور گرین لینڈ کے حقِ خود اختیاری کا بھی احترام کرتا ہے۔
معاہدے کے تحت گرین لینڈ میں دو نئے امریکی فوجی مراکز قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ان میں نارسارسواک کا سابق سرد جنگ ایئربیس اور میسٹرزویگ شامل ہیں۔ امریکا پہلے ہی شمال مغربی گرین لینڈ میں پیٹفک اسپیس بیس چلا رہا ہے۔
یہ معاہدہ 1951 کے دفاعی معاہدے میں ترمیم کرتا ہے، امریکی طیاروں اور بحری جہازوں کو گرین لینڈ اور اس کے علاقائی پانیوں تک وسیع رسائی دیتا ہے اور مستقبل میں مزید امریکی اڈوں کی گنجائش بھی رکھتا ہے۔
معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی تنصیبات قائم کرنے سے روکا گیا ہے، جبکہ اہم انفراسٹرکچر اور وسائل جیسے حساس شعبوں میں بعض غیر نیٹو سرمایہ کاری پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی خودمختاری کے تحت ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جو رقبے میں ٹیکساس سے تقریباً تین گنا بڑا اور آبادی میں صرف 57 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
سرد جنگ کے دوران امریکا کے گرین لینڈ میں 17 فوجی تنصیبات اور 10 ہزار سے زائد اہلکار موجود تھے۔ موجودہ معاہدہ سرد جنگ کے بعد امریکی فوجی انفراسٹرکچر میں بڑی توسیع کی راہ ہموار کرتا ہے۔
