اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گرد ہلاک جبکہ پاک فوج کے دو افسران سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے اور خوارج کے درمیان ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ آئی ایس پی آر نے ہلاک دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج قرار دیا ہے۔
شدید فائرنگ کے دوران 23 سالہ کیپٹن ابوذر فاروق اور 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر بھی شہید ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں افسران اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے اگلے محاذ پر موجود تھے اور مقابلے کے دوران جان کا نذرانہ پیش کیا۔
شہید ہونے والے دیگر اہلکاروں میں سپاہی شکیل احمد، سپاہی حمزہ، سپاہی محمد عثمان عزیز اور نان کمبیٹنٹ غلام سجاد شامل ہیں۔
یہ واقعہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے بعد پیش آیا ہے۔ اس سے قبل 15 سے 17 ستمبر کے دوران شمالی وزیرستان اور ہنگو میں مختلف کارروائیوں کے دوران 10 دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ ایک الگ واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر آئی ای ڈی حملے میں 6 اہلکار شہید ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
پاک فوج کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی سے منسلک 267 واقعات میں 774 افراد جاں بحق اور 336 زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مجموعی طور پر تقریباً 96 فیصد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
