اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کے لارک جزیرے پر کارروائی کے جواب میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد چھ ماہ سے جاری جنگ میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اردن میں دو امریکی فوجی ایئربیسز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور حملوں میں بھاری نقصان ہوا۔
تاہم اردن کی فوج نے کہا کہ اس نے 8 میزائل روک لیے، تاہم ان میزائلوں کے اصل منبع کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
ایرانی حملے امریکا کی جانب سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز کے لارک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد ہوئے۔
واشنگٹن کے مطابق امریکی کارروائی کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں مزید سمندری بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے کہا کہ امریکی فورسز نے مائن بچھانے والی فورسز کے خلاف محدود اور درست کارروائی کی، جنہیں آبنائے ہرمز میں فوری خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور اردن میں امریکی اہداف پر کارروائی کو امریکا اور اسرائیل کی فضائی جارحیت کا جواب قرار دیا۔
ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئربیس کو بھی ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اس اڈے پر ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں امریکی فوجی اور ہیلی کاپٹر موجود تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان اڈوں کو لارک جزیرے پر امریکی حملے کی کارروائی کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔
تہران نے اردن میں حملوں کو دفاع کا جائز حق قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مستقبل میں مزید فوجی جارحیت کی صورت میں ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔
یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لڑائی کی شدت میں کمی آئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی برقرار رہی۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ تہران پر مزید ثانوی پابندیاں ہر ہفتے عائد کی جاسکتی ہیں، جن میں ابتدائی توجہ بینکنگ شعبے پر ہوگی۔
