September 27th March PTI's main convoy from Khyber Pakhtunkhwa, funding and protest plan finalized

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے ابتدائی حکمت عملی طے کرلی ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا سے مرکزی قافلہ روانہ ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے اس میں شامل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی نے اسلام آباد مارچ میں شرکت کے خواہشمند کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مرکزی قافلے کی روانگی سے کم از کم پانچ روز قبل خیبر پختونخوا پہنچ جائیں۔

منصوبے کے مطابق پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر دو سے تین روز قیام کرے گا اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلوں کے اجتماع کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کرے گا۔

احتجاجی حکمت عملی کے تحت وسطی پنجاب میں لاہور کو بند کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں شٹر ڈاؤن کی کال دی جائے گی۔ بلوچستان میں کوئٹہ اور اہم قومی شاہراہوں پر احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی مجوزہ احتجاجی منصوبے پر مشاورت کرے گی۔

پارٹی نے مارچ کے پہلے روز کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 45 کروڑ روپے لگایا ہے، جبکہ اس کے بعد روزانہ تقریباً 1 کروڑ 45 لاکھ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے احتجاجی تحریک کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے سے 4 کروڑ سے 5 کروڑ روپے تک جمع کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ارکان اسمبلی اور پارٹی کی اہم شخصیات سے بھی مالی تعاون طلب کیا ہے۔

فنڈز کے انتظامات کی نگرانی کے لیے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی سربراہی میں فنڈنگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو اپنے اپنے حلقوں میں عوامی رابطہ اور متحرک کرنے کی مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ تیاریوں اور کارکنوں کی شرکت کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

یہ فیصلے اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، خیبر پختونخوا چیپٹر کے صدر جنید اکبر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ناراض پارٹی ارکان کو دوبارہ احتجاجی مہم میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ جنید اکبر کو ناراض ارکان سے رابطہ کرکے انہیں منانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے بھی رابطہ کرکے انہیں مارچ میں شرکت پر آمادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے ناراض ارکان کو متحد کرنے کی کوششوں کی حمایت کریں گے اور علی امین گنڈاپور کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد میں شریک ہوں گے۔