New twist in Iran war, attacks on ships, negotiations to open Hormuz stalled again

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود خلیج عمان اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر نئے حملوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جبکہ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اپنی شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز کے قریب خلیج عمان اور بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب میں الگ الگ واقعات پیش آئے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں۔ ان واقعات کے بعد عالمی منڈیوں میں ایران جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں کم ہوئیں، برینٹ خام تیل کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے بعد 88.91 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 1.3 فیصد اضافے کے بعد 83.20 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

باب المندب میں یمنی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک مشتبہ حوثی حملے میں مصری ملکیتی چھوٹے کارگو جہاز تہامہ کے عملے کے چار ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ یمنی کوسٹ گارڈ کے مطابق حوثی مخالف فوجی گروپ سے تعلق رکھنے والے دو امدادی اہلکار بھی مارے گئے۔ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے میں یہ پہلی ہلاکتیں قرار دی جا رہی ہیں۔

حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے ’سبا‘ نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے سعودی جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم جہاز کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے ایم ایچ -60 ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم کو ناکارہ بنانے کے لیے دو ہیل فائر میزائل داغے۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز کو ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر رکنے کی متعدد وارننگز دی گئی تھیں۔ بحری ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جہاز کو پاکستان کے قریب خلیج عمان میں نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک امریکا ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ ان شرائط میں ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی اور لبنان و غزہ سمیت خطے میں جاری تنازعات کا خاتمہ شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیر محمد رضا نقدی نے بھی سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پاسداران انقلاب ایسی صلاحیت پیدا کر رہا ہے جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر ’’دشمن کی سرزمین‘‘ پر کارروائیاں کی جا سکیں۔

ادھر یمن کے حوثی گروپ نے مارب اور ساحلی شہر المخا میں سعودی عرب سے منسلک فوجی تنصیبات، اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے درجنوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ سعودی عرب نے فوری طور پر اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئے قانون پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایران کی جانب سے ’دشمن‘ قرار دیے گئے ممالک کے فوجی اور تجارتی جہازوں کو ایرانی اجازت کے بغیر خلیج میں داخل ہونے سے روکا جا سکے گا۔