اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی 2026 فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں پاکستان کو سرکاری مالی معاملات میں شفافیت اور پارلیمانی نگرانی مزید بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر حکومت کے مجوزہ بجٹ، قرضوں اور سرکاری اداروں کی مالی ذمہ داریوں سے متعلق معلومات بروقت اور مکمل طور پر عوام کے سامنے لانے پر زور دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جائزے کے دوران پاکستان نے منظور شدہ بجٹ اور مالی سال کے اختتامی رپورٹ سمیت اہم مالی دستاویزات عوام کے لیے، خصوصاً آن لائن، آسانی سے دستیاب رکھیں۔ تاہم رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ حکومت نے اپنا ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل مناسب مدت کے اندر شائع نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ بجٹ بروقت عوام کے سامنے آنے سے پارلیمنٹ، ماہرین اور شہریوں کو حکومت کی اخراجات اور آمدنی سے متعلق ترجیحات کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کو سفارش کی کہ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل مناسب مدت کے اندر عوامی دسترس میں لایا جائے۔
رپورٹ میں حکومت کی مالی ذمہ داریوں، خصوصاً بڑے سرکاری اداروں کے قرضوں سے متعلق معلومات کو بھی محدود قرار دیا گیا۔ امریکی جائزے کے مطابق سرکاری اداروں کے قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی زیادہ تفصیلات سامنے آنے سے حکومت کی مجموعی مالی پوزیشن اور مستقبل میں پیدا ہونے والے ممکنہ مالی خطرات کا بہتر اندازہ لگایا جاسکے گا۔
تاہم امریکی رپورٹ نے پاکستان کے مالیاتی نظام کے کئی پہلوؤں کو مثبت بھی قرار دیا۔ اس کے مطابق عوامی طور پر دستیاب بجٹ دستاویزات حکومت کے بیشتر منصوبہ بند اخراجات اور آمدنی، بشمول قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی، کی کافی حد تک مکمل تصویر فراہم کرتی ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے اعلیٰ آڈٹ ادارے کے نظام کو بھی عمومی طور پر قابلِ اعتماد قرار دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق آڈٹ کا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق آزادی رکھتا ہے اور اس کی رپورٹس مناسب مدت کے اندر عوام کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں قدرتی وسائل کے معاہدوں، لائسنسز اور سرکاری خریداری کے حوالے سے بھی پاکستان کے نظام کو نسبتاً مثبت قرار دیا گیا۔
