اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) شکاگو مرون کی خبر کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تعلیمی استعمال پر دنیا بھر میں جاری بحث کے درمیان یونیورسٹی آف شکاگو نے سوشل سائنسز کی بنیادی کلاسز میں اے آئی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو محدود کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ سوشل سائنسز کولیجیٹ ڈویژن کے نئے رہنما اصولوں کے مطابق موسم خزاں سے سوشل سائنسز کور کلاسز عمومی طور پر ٹیکنالوجی سے پاک ہوں گی جبکہ طلبہ اور اساتذہ کے لیے ٹولز کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔
ایس ایس سی ڈی ماسٹر جینی ٹرینیتاپولی نے سیکوئنس چیئرز اور اساتذہ سے مشاورت کے بعد یہ رہنما اصول جاری کیے۔ میمو میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ اساتذہ کے درمیان اس بات پر مضبوط اتفاق پایا گیا کہ سوشل سائنسز کور کو ایسے تعلیمی ماحول کے طور پر پڑھایا جائے جہاں اے آئی موجود نہ ہو اور آنے والے تعلیمی سال میں یہ کلاسز مجموعی طور پر اینالاگ انداز میں چلائی جائیں۔
نئی پالیسی کے تحت طلبہ زیادہ تر مطالعاتی مواد کاغذ پر پڑھیں گے اور کلاس روم میں ڈیوائسز کے بغیر رہنمائی پر مبنی مباحثوں میں حصہ لیں گے۔
یونیورسٹی کے میمو میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طلبہ کو اے آئی پر انحصار کے بغیر پڑھنے، لکھنے اور آزادانہ سوچنے کی تربیت دینا بنیادی مقصد ہے۔ اسی طرح اے آئی کی مدد سے گریڈنگ کو بھی سوشل سائنسز کور میں جگہ نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے، البتہ اساتذہ اس ٹیکنالوجی کی درستگی کو انسانی گریڈنگ کے مقابل جانچنے کے لیے محدود تجربہ کرسکتے ہیں۔
یونیورسٹی کے مطابق اس پالیسی پر 2025 میں اے آئی اور تعلیم سے متعلق تیار کی گئی رپورٹ کا بھی اثر ہے، جس میں انسانی رابطے، باہمی تعامل اور انسانی مہارت کو تعلیم کے بنیادی حصے قرار دیا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب یونیورسٹی نے انتھروپک کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے اور ستمبر سے طلبہ کو کلاڈ انٹرپرائز تک مفت رسائی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو لا اسکول بھی جولائی میں اسی سمت میں قدم اٹھا چکا ہے، جہاں کلاس روم میں الیکٹرانک ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی اور بیشتر پہلے سال کے طلبہ کے لیے بالمشافہ امتحانات کا اعلان کیا گیا تھا۔
