اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں یا تجارتی سرگرمیوں پر کسی قسم کی فیس یا محصول عائد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو ایسی رعایت دی گئی تو دنیا کے دیگر ممالک بھی اسی طرز کے مطالبات کرنا شروع کر دیں گے، جس سے عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا کی شکست اور ایران کی سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے دباؤ یا دھمکیوں کے نتیجے میں نہیں بلکہ اپنی مزاحمت اور قومی طاقت کے بل بوتے پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا۔
قالیباف نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ بیرونی طاقتیں استحکام کے بجائے عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کو بھی ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی اہم شرط قرار دیا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سپلائی سے متعلق خدشات کم ہونے کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا ہوا ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کے انتظام، لبنان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی جیسے اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث آئندہ مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
