Trump administration's big decision: ban on new Chinese humanoid robots and power inverters

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے قومی سلامتی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کے تحفظ کے لیے چین سے درآمد ہونے والے نئے ہیومنائیڈ اور چار ٹانگوں والے روبوٹس سمیت کنیکٹڈ پاور اِنورٹرز پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ امریکی سپلائی چین کو ممکنہ سائبر حملوں، ڈیٹا چوری اور سکیورٹی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

ایف سی سی کا کہنا ہے کہ یہ آلات امریکی اہم تنصیبات، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کے نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اسی لیے نئی پابندیاں فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی کمپنیوں کو مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا بھی ہے۔

امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جدید  روبوٹس حساس معلومات اکٹھی کر کے بیرونی اداروں تک پہنچا سکتے ہیں یا اہم نظاموں میں مداخلت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں چینی کمپنی یونیٹری خاص طور پر امریکی نگرانی میں آ گئی ہے۔ مارکیٹ ریسرچ ادارے کاونٹر پوائینٹ ریسیرچ کے مطابق عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں یونٹری کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے۔ کمپنی کو حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع نے ان اداروں کی فہرست میں بھی شامل کیا ہے جن پر چینی فوج سے روابط کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب چین نے امریکی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی اور تجارتی دباؤ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ امریکہ چینی کمپنیوں کو بدنام کرنے اور بلاجواز پابندیاں لگانے کا سلسلہ بند کرے۔ بیجنگ نے خبردار کیا کہ اگر اس کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا تو چین اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق پابندیاں صرف ان نئے روبوٹ اور اِنورٹر ماڈلز پر لاگو ہوں گی جو ابھی امریکی مارکیٹ میں متعارف نہیں ہوئے، تاہم ایف سی سی پہلے سے منظور شدہ مصنوعات کی منظوری واپس لینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں وولٹ ٹائیفون جیسے سائبر حملوں اور چینی ٹیکنالوجی پر بڑھتے انحصار نے ایسے اقدامات کو ناگزیر بنا دیا ہے، جبکہ واشنگٹن مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور حساس ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین پر مزید سخت پابندیوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔