Stop the fighting Guterres' final General Assembly address calls for global oversight of AI.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں عالمی رہنماؤں پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے، جنگیں ختم کرنے، موسمیاتی تبدیلی پر مؤثر اقدامات اور عالمی اداروں میں اصلاحات پر زور دیا ہے۔

نیویارک میں 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں تیزی سے پیش رفت کرنے والے ممالک کو ابھرتے ہوئے حفاظتی خطرات سے متعلق معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنی چاہئیں اور ٹیکنالوجی کی جانچ اور جائزے میں تعاون کرنا چاہیے۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مشترکہ حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور ایک کثیرالجہتی اے آئی رسک مینجمنٹ فریم ورک تشکیل دیا جائے، جس کی نگرانی قابلِ اعتماد اور آزاد اداروں کے ذریعے ہو۔

گوتریس نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ لڑائی بند ہونی چاہیے، انسانی امداد کی فراہمی جاری رہنی چاہیے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری نقل و حرکت کے حقوق اور آزادی مکمل طور پر بحال کی جانی چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آلودگی پھیلانے والوں کو قیمت ادا کرنے پر زور دیا۔

گوتریس نے اقوام متحدہ کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق اجتماعی کارروائی کے عالمی نظام بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہیں جبکہ موجودہ عالمی ادارے ایسے دور کی طاقت اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں جو بڑی حد تک گزر چکا ہے۔

گوتریس کا دوسرا پانچ سالہ دور 31 دسمبر کو ختم ہوگا۔ انہوں نے تقریباً ایک دہائی پر محیط منصب کے اختتام پر کہا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی امن کے ممکن ہونے کے یقین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اقوام متحدہ نے 2023 میں اے آئی کے خطرات اور عالمی حکمرانی سے متعلق 39 رکنی مشاورتی ادارہ بھی قائم کیا تھا۔