اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق کارروائیوں میں متعدد دہشت گرد ٹھکانے کلیئر کیے گئے جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق معتبر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی شروع کی گئی تھی، جس کے بعد ضلع کوئٹہ کے علاقے شبان میں متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شعبان میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 33 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ 72 گھنٹوں میں آپریشن مزید تیز کیے جانے کے بعد مزید 23 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے وسیع علاقہ کلیئر کرلیا ہے اور مقامی آبادی کو دہشت گردوں کے خطرے سے نجات دلائی گئی ہے۔ مکمل خطرہ ختم ہونے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
شعبان آپریشن میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 23 ستمبر کو 13 اور 24 ستمبر کو 22 تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے علاوہ 25 ستمبر کو نوشکی میں ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 11 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مند میں بھی 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ 22 اور 23 ستمبر کو کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں ہونے والے الگ الگ قبل از وقت انٹیلی جنس آپریشنز میں مزید 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
فوج نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان طالبان حکومت کے عناصر اور بھارت کی حمایت شامل ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔
صدر آصف علی زرداری نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
دریں اثنا، پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد حملے جولائی کے 83 سے بڑھ کر اگست میں 89 ہوگئے، جو 7 فیصد اضافہ ہے۔
