Prime Minister's strong message on Independence Day Pakistan's sovereignty will be given a befitting reply if challenged

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ باعزت اور باوقار امن کا خواہاں ہے، تاہم امن کی خواہش کو کسی صورت کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو آئندہ کسی نے چیلنج کیا تو مئی 2025 کے معرکۂ حق سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے یہ بات جمعرات کو پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یادگارِ فتح 2025 کے معرکۂ حق کے دوران شہدا کی قربانیوں اور پاکستان کی کامیابی کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔

تقریب میں صدر آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، وفاقی وزرا، سیاسی رہنما، ارکان پارلیمنٹ، سفارت کار اور مسلح افواج کے افسران شریک ہوئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مئی 2025 کی کامیابی نے پاکستان کا وقار غیر معمولی طور پر بلند کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کسی نے پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی کو چیلنج کیا تو اسے اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نئی دہلی نے اپنے آپ کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا، پاکستان کے پانی کا ہر ایک قطرہ ہماری ریڈ لائن ہے۔

انہوں نے یادگارِ فتح کو شہدا، غازیوں، قوم اور مسلح افواج کے عزم کی علامت قرار دیا اور بتایا کہ یہ منصوبہ صرف آٹھ ماہ میں مکمل کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے ساتھ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے کردار کو بھی سراہا۔

کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ فلسطین کے منصفانہ حل کی حمایت بھی برقرار رہے گی۔

افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک میں امن چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابل قبول ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال بھارتی جارحیت کے جواب نے واضح کردیا کہ پاکستان کوئی ایسا ملک نہیں جس کے ساتھ من مانی کی جاسکے۔ انہوں نے یادگارِ فتح کو قومی اتحاد، مسلح افواج کی طاقت اور قربانیوں کی علامت قرار دیا۔

صدر نے کہا کہ ہر قوم میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں، تاہم پاکستان نے مشکلات اور کامیابیوں کے باوجود اپنے نظام کو آگے بڑھایا ہے۔ تقریب سے قبل فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کے اہلکاروں نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ فوجی بینڈ نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔