Pakistan strongly reacts to Indian Defense Minister's provocative statement, reiterates resolve to foil every venture

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے کشمیر سے متعلق حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے عزم کو ہرگز کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع جموں و کشمیر کے حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ بھارتی حکومت کی اس پالیسی کی بھی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد خطے اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت اس قسم کے بیانات کے ذریعے دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار، خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور اپنے داخلی سیاسی بحرانوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایسے تمام الزامات اور اشتعال انگیز دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ زبان اور جنگی بیانات کے باوجود پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بیان میں گزشتہ برس ہونے والے آپریشن بنیان المرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج پہلے بھی دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دے چکی ہیں اور آئندہ بھی ہر قسم کی مہم جوئی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے مسلسل اشتعال انگیز طرزِ عمل اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کے مطابق مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ تنازع ہے جس کا حل کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے میں مضمر ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو سیاسی بیانات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے شدہ ہے، جسے یکطرفہ دعوؤں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت خود جنوبی ایشیا میں عدم استحکام، ریاستی دہشت گردی اور جارحانہ پالیسیوں کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے، جبکہ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی کی مسلسل دھمکی آمیز زبان خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہی ہے اور یہ رویہ کسی بھی صورت امن کے لیے سودمند نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر دفاع کے مطابق راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیانات دراصل بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر ہونے والی اندرونی تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔