Pakistan assures EU of full implementation of GSP+, Ishaq Dar's important meeting with Kaya Kalas

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کو جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے تحت تمام بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور اسلام آباد باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33ویں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، علاقائی صورتحال، اقتصادی شراکت داری اور عالمی امن و استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب یورپی کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی جی ایس پی + ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بعض شعبوں میں پیش رفت کو محدود قرار دیتے ہوئے مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل اور جی ایس پی + فریم ورک کے تحت اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جیسے معاملات، صرف سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تحت تعاون مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، توانائی، علاقائی روابط، سرمایہ کاری اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ کے ساتھ ملاقات میں تجارت، اقتصادی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور دیگر مشترکہ شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔