اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور عالمی بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت بدستور مفت جاری ہے۔
حوثیوں کے زیرانتظام ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ باب المندب سے محفوظ گزرنے کی سہولت مکمل طور پر رضاکارانہ اور بلا معاوضہ ہے۔ ادارے نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ اگر کوئی شخص یا ادارہ جہازوں سے گزرنے کے بدلے رقم طلب کرے تو اس کا نہ یمنی حکام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر سے، لہٰذا ایسی کسی بھی ادائیگی یا معلومات کے تبادلے سے گریز کیا جائے۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب چند روز قبل رائٹرز نے علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حوثی قیادت جنوبی بحیرۂ احمر سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
دریں اثنا حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بحری ناکہ بندی کے باعث سعودی عرب کے آٹھ تیل بردار جہازوں کو باب المندب کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل سمندری راستے سے سفر کرنا پڑا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے نیا انتظامی طریقہ کار وضع کر رہا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے خبردار کیا کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ برطانیہ نے ایک بار پھر سفارت کاری کو ہی بحران کا واحد حل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب سی بی سی نیوز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے فضائی حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ اہداف میں بجلی گھر، آئل ریفائنریز اور دیگر اہم توانائی تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی نہیں دی۔
صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے دوران ایران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا بہت سخت جواب دے گا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
