Mediating countries strongly react to increasing bloodshed in Gaza, warn Israel

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اضافے پر جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے ترکیہ، مصر اور قطر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل سے جنگ بندی کی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ تینوں ممالک کا مشترکہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب غزہ میں منگل سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ طبی ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں میں حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترکیہ، مصر اور قطر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملوں میں شدت ایک ایسے وقت میں علاقائی اور عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جب غزہ تنازع ختم کرنے کے لیے جامع منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ثالث ممالک نے عالمی برادری اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ جنگ بندی کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے مجوزہ روڈ میپ کے تحت حماس کو مرحلہ وار اپنے ہتھیار چھوڑنے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا اور فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس ترتیب کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے۔

دوسری جانب حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کرے اور غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے۔ حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کی مجوزہ ترتیب سے بھی اختلاف کیا ہے، جس کے باعث جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ادھر امریکی ایلچی جیرڈ کشنر نے پیر کو خطے کا دورہ مکمل کیا، تاہم وہ صدر ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں کوئی نمایاں پیش رفت حاصل نہیں کرسکے۔ ثالث ممالک نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ اکتوبر جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 1,283 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اسی عرصے میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔