اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’تھیٹر ڈپلومیسی قرار دیا ہے۔
قالیباف نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ٹرمپ کی جانب سے پہلے بڑے حملے کی دھمکی اور پھر مذاکرات کی پیشکش کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑا حملہ آنے والا ہے کہنے کے بعد اچانک یہ کہنا کہ دوسرا فریق مذاکرات چاہتا ہے، دراصل تھیٹر ڈپلومیسی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔
ایرانی اسپیکر نے امریکا پر دھونس، وعدہ خلافی اور غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناکام حکمت عملی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ حقائق کو تسلیم کرے اور اپنے وعدے پورے کرے، کیونکہ ایران کو مزید ڈرامائی سفارت کاری کی ضرورت نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور وسیع تر کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات میں شامل ہیں اور معاہدہ جلد طے پانے کی امید ظاہر کی تھی۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ واشنگٹن نے ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران نے اردن، بحرین اور کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایران کو بہت سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے توانائی تنصیبات، پلوں اور بجلی گھروں کو بھی ممکنہ اہداف قرار دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی کے بعد حملے روک دیے گئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اضافی فوجی کارروائی روکنے کے فیصلے میں امریکی انٹرسیپٹرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی بھی ایک عنصر تھی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو پہلے اپنے وعدوں اور معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، جبکہ واشنگٹن آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے پر زور دے رہا ہے۔
